احمد یوسفی 4 ستمبر 1923ء کو ہندوستان کے شہر جے پور میں ایک تعلیم یافتہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد عبد الکریم خان یوسفی جے پور بلدیہ کے صدر نشین تھے اور بعد میں جے پور قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر مقرر ہوئے۔ مشتاق احمد یوسفی نے راجپوتانہ میں اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی اور بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں آگرہ یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم اے کیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری لی۔ تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان سرحد پار کے شہر کراچی میں منتقل ہو گیا۔ وہ سنہ 1950ء میں مسلم کمرشیل بینک سے متعلق ہوئے اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ سنہ 1965ء میں الائیڈ بینک میں بحیثیت مینیجنگ ڈائریکٹڑ مقرر ہوئے۔ سنہ 1974ء میں یونائٹیڈ بینک کے صدر اور 1977ء میں پاکستان بینکنگ کونسل کے صدر نشین بنے۔ بینکاری کے شعبہ میں ان کی غیر معمولی خدمات پر انہیں قائد اعظم میموریل تمغا عطا ہوا۔۔ سنہ 1999ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں ستارہ امتیاز ملا، پھر سنہ 2002ء میں پاکستان کا سب سے بڑا تعلیمی اعزاز نشان امتیاز سے نوازا گیا۔ مشتاق احمد یوسفی بڑے نستعلیق انسان تھے۔ وہ بینکر تھے۔ عوامی اور تعلقات عامہ کے آدمی نہیں تھے۔ وہ لکھتے کم تھے لیکن معیار پر نظر رکھتے تھے۔آپ ۲۰ جون ۲۰۱۸ کو فوت ہوئے۔ چراغ تلے 1961ء میں چھپی اور خاکم بدہن 1969ء میں، جب کہ زرگزشت 1976ء میں اور ان تین کتابوں کے ذریعے انہوں نے شگفتہ نثر نگاری کا جو اعلی معیار قائم کیا اس کا نمونہ دور دور تک کہیں اور نظر نہیں آتا تھا۔ آبِ گم، جو 1990ء میں چھپی ناول کی طرح مقبول ہوئی۔ یہ ایسی کتابیں تھیں جن کے وسیلے سے یوسفی صاحب اردو ادب کا ایک مستقل باب ہو چکے تھے۔ ایک اور کتاب بھی آئی تھی یوسفی صاحب کی، شامِ شعرِ یاراں۔ یہ کتاب 2014ء میں منظر عام پر آئی جو ان کی متفرق تحریروں کو جہاں تہاں سے جمع کرکے مرتب کر لی گئی تھی۔ شامِ شعرِ یاراں جب شائع ہوئی تو ان کے مداحوں کو اس سے مایوسی ہوئی کیونکہ ان کے شائقین کے سامنے ان کا سابقہ معیار تھا جس کے وہ نئی کتاب میں منتظر تھے۔ شامِ شعرِ یاراں یوسفی کے مانوس اسلوب کے معیار پر نہیں اتری تھی۔ دراصل یہ آخری کتاب ان کے مضامین اور بعض تقریروں کا مجموعہ ہے۔